أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: وَقُلْنَا: " إِذَا أَسْلَمَ الْمَجُوسِيُّ، وَابْنَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ أُمُّهُ، نَظَرْنَا إِلَى أَعْظَمِ النَّسَبَيْنِ فَوَرَّثْنَاهَا بِهِ، وَأَلْقَيْنَا الْأُخْرَى، وَأَعْظَمُهُمَا أَثْبَتُهُمَا بِكُلِّ حَالٍ، فَإِذَا كَانَتْ أُمًّا أُخْتًا وَرَّثْنَاهَا ⦗٤٢٦⦘ بِأَنَّهَا أُمٌّ، وَذَلِكَ أَنَّ الْأُمَّ قَدْ ثَبَتَتْ فِي كُلِّ حَالٍ، وَالْأُخْتَ قَدْ تَزُولُ، وَهَكَذَا جَمِيعُ فَرَائِضِهِمْ عَلَى هَذِهِ الْمَنَازِلِ ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: أُوَرِّثُهَا مِنَ الْوَجْهَيْنِ مَعًا.امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ہم نے کہا: جب مجوسی اسلام لائے اور آدمی کی بیٹی ہی اس کی بیوی ہو یا اس کی بہن ہی اس کی ماں ہو تو ہم دونوں نسبوں میں سے بڑے نسب کی طرف دیکھیں گے اور اسی کے ذریعے اسے وارث بنائیں گے اور دوسرے کو ساقط کر دیں گے، اور ان دونوں میں سے بڑا وہ ہے جو ہر حال میں زیادہ پختہ ہو۔ پس جب وہ ماں بھی ہو اور بہن بھی تو ہم اسے ماں ہونے کی بنا پر وارث بنائیں گے، کیونکہ ماں ہر حال میں ثابت رہتی ہے اور بہن کبھی زائل بھی ہو جاتی ہے، اور اسی طرح ان کے سارے حصے انہی منازل کے اعتبار سے ہوں گے اور بعض لوگوں نے کہا: میں اسے دونوں اعتبار سے اکٹھا وارث بناؤں گا۔