حدیث نمبر: 12506
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: وَقُلْنَا: " إِذَا أَسْلَمَ الْمَجُوسِيُّ، وَابْنَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ أُمُّهُ، نَظَرْنَا إِلَى أَعْظَمِ النَّسَبَيْنِ فَوَرَّثْنَاهَا بِهِ، وَأَلْقَيْنَا الْأُخْرَى، وَأَعْظَمُهُمَا أَثْبَتُهُمَا بِكُلِّ حَالٍ، فَإِذَا كَانَتْ أُمًّا أُخْتًا وَرَّثْنَاهَا ⦗٤٢٦⦘ بِأَنَّهَا أُمٌّ، وَذَلِكَ أَنَّ الْأُمَّ قَدْ ثَبَتَتْ فِي كُلِّ حَالٍ، وَالْأُخْتَ قَدْ تَزُولُ، وَهَكَذَا جَمِيعُ فَرَائِضِهِمْ عَلَى هَذِهِ الْمَنَازِلِ ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: أُوَرِّثُهَا مِنَ الْوَجْهَيْنِ مَعًا.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ہم نے کہا: جب مجوسی اسلام لایا اور اس کی بیٹی، بیوی اور اس کی اخیافی بہن تھی، ہم نے دو بڑے نسبوں کی طرف دیکھا۔ ہم نے اسے اس کا وارث بنا دیا اور دوسرے کو ساتھ ملا دیا اور ان دونوں میں سے بڑا اور پختہ ہر حال میں جب ماں اور بہن ہو تو ہم نے اسے وارث بنا دیا، کیونکہ وہ ماں ہے اور ماں ہر حال میں ثابت ہے اور اخت کبھی زائل بھی ہو جاتی ہے اور اسی طرح سارے حصے منازل کے اعتبار سے ہوں گے اور بعض لوگوں نے کہا: میں اسے دو اعتبار سے اکٹھا وارث بناؤں۔