حدیث نمبر: 12463
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ عَبِيدِ بْنِ الْأَبْرَصِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا حِينَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عِجْلٍ يُقَالُ لَهُ الْمَسْتَوْرِدُ، كَانَ مُسْلِمًا فَتَنَصَّرَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا ذَاكَ؟ " فَقَالَ: وَجَدْتُ دِينَهُمْ خَيْرًا مِنْ دِينِكُمْ، قَالَ: " وَمَا دِينُكَ؟ " قَالَ: دِينُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَأَنَا عَلَى دِينِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَكِنْ مَا تَقُولُ فِي عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ " فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيَتْ عَلَيَّ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَزَعَمَ الْقَوْمُ أَنَّهُ قَالَ أَنَّهُ رَبُّهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اقْتُلُوهُ، فَتَوَطَّأَهُ الْقَوْمُ حَتَّى مَاتَ "، قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ الْحِيرَةِ فَأَعْطَوا يَعْنِي بِجِيفَتِهِ اثْنَى عَشَرَ أَلْفًا، فَأَبَى عَلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، وَلَمْ يَعْرِضْ لِمَالِهِ وَرَوَاهُ أَيْضًا الشَّعْبِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دُونَ ذِكْرِ الْمَالِ. ثُمَّ قَدْ جَعَلَهُ الشَّافِعِيُّ لِخَصْمِهِ ثَابِتًا، وَاعْتَذَرَ فِي تَرْكِهِ قَوْلَهُ بِظَاهِرِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ "، كَمَا تَرَكُوا بِهِ قَوْلَ مُعَاذٍ وَمُعَاوِيَةَ وَغَيْرِهِمَا فِي تَوْرِيثِ الْمُسْلِمِ مِنَ الْيَهُودِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عبید بن ابرص فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، جب بنی عجل کے ایک آدمی مستورد کو لایا گیا، وہ مسلمان تھا، پھر یہودی ہو گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: میں نے ان کا دین تمہارے دین سے بہتر پایا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تیرا دین کیا ہے، اس نے کہا: عیسیٰ (علیہ السلام) والا دین، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر ہوں، لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتا ہے، اس نے ایسا کلمہ کہا جو مجھ سے مخفی رہا، میں اسے سمجھ نہ سکا، لوگوں نے خیال کیا کہ اس نے کہا ہے کہ وہ اس کے رب ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے قتل کر دو۔ لوگوں نے اسے روندنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، پھر اہل حیرۃ کے لوگ آئے انہوں نے لاش کے بدلے بارہ ہزار دیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ اس کی لاش جلا دو اور اس کا مال بھی پیش نہ کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس میں مال کا ذکر نہیں ہے۔ پھر شافعی (رحمہ اللہ) سے اس میں اختلاف ثابت ہے اور اس کے چھوڑنے میں عذر بیان کیا، اس کا قول بظاہر نبی ﷺ کا قول ہے کہ ”مسلمان کافر کا وارث نہ بنے اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے“ جیسا کہ انہوں نے معاذ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا قول کہ مسلمان کا یہودی کا وارث بننا بھی چھوڑ دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12463
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»