أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ أُتِيَ بِمُسْتَوْرِدٍ الْعِجْلِيِّ وَقَدِ ارْتَدَّ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى "، قَالَ: " فَقَتَلَهُ، وَجَعَلَ مِيرَاثَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " ⦗٤١٦⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ يَزْعُمُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْكُمْ أَنَّهُ غَلَطٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي لِلَّذِي يُنَاظِرُهُ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْكُمْ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ الْحُفَّاظَ لَمْ يَحْفَظُوا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَقَسَمَ مَالَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ الْمُسْلِمِينَ، وَنَخَافُ أَنْ يَكُونَ الَّذِي زَادَ هَذَا غَلَطَ؟ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَرَأْتُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ ضَعَّفَ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ مِيرَاثَ الْمُرْتَدِّ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَتْ قِصَّةُ الْمُسْتَوْرِدِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَلَيْسَ فِيهَا هَذِهِ اللَّفْظَةُ، وَإِنَّمَا فِيهَا أَنَّهُ لَمْ يَعْرِضْ لِمَالِهِ.حضرت ابوعمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مستورد عجلی کو لایا گیا، وہ مرتد ہو گیا تھا، آپ نے اس پر اسلام پیش کیا، اس نے انکار کر دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا اور اس کی میراث اس کے مسلمان رشتہ داروں کو دے دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تم میں سے بعض اہل حدیث خیال کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: میں نے اسے کہا: جس کا موقف یہ ہے، کیا تو نے اہل حدیث سے سنا ہے؟ جو میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یاد نہیں رکھا کہ آپ نے اس کا مال ان کے مسلمان ورثاء کے درمیان تقسیم کر دیا ہو اور ہم ڈرتے ہیں کہ جس نے یہ زیادتی (اضافہ) کی وہ غلط ہو۔
امام احمد رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، جس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مرتد کی میراث اس کے مسلمان ورثاء کے لیے ہے۔