السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: توريث القربى منهن إذا كانت من قبل الأم، والإشراك بينهن إذا كانت القربى من قبل الأب وهو الصحيح من مذهب زيد رضي الله عنه باب: جب قریب والی دادی ماں کی طرف سے ہو تو صرف اسے وارث بنانا، اور اگر قریب والی باپ کی طرف سے ہو تو ان کے درمیان حصہ شریک کرنا، اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے مذہب میں یہی صحیح ہے
حدیث نمبر: 12365
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ أَقْعَدَ مِنَ الْجَدَّةِ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ فَهِيَ أَحَقُّ بِالسُّدُسِ، وَإِذَا كَانَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ أَقْعَدَ أُشْرِكَتْ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَدَّةِ الْأُمِّ " قِيلَ: وَكَيْفَ صَارَتِ الْجَدَّةُ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ؟ قَالَ: " لِأَنَّ الْجَدَّاتِ إِنَّمَا أُطْعِمْنَ السُّدُسَ مِنْ قِبَلِ سُدُسِ الْأُمِّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: جب جدہ ماں کی جانب سے قریبی ہو تو وہ باپ والی سے زیادہ حق دار ہے اور «السُّدُسُ» ”چھٹے حصے“ کی حق دار بھی وہی ہے اور جب جدہ باپ کی طرف سے قریبی ہو تو میں دونوں کو شریک کروں گا، کہا گیا کہ ماں والی جدہ کیسے اس مقام پر پہنچ گئی؟ آپ نے کہا: اس لیے کہ جدات کا حصہ «السُّدُسُ» ہے، ماں والے «السُّدُسُ» کی وجہ سے۔