السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: توريث القربى منهن إذا كانت من قبل الأم، والإشراك بينهن إذا كانت القربى من قبل الأب وهو الصحيح من مذهب زيد رضي الله عنه باب: جب قریب والی دادی ماں کی طرف سے ہو تو صرف اسے وارث بنانا، اور اگر قریب والی باپ کی طرف سے ہو تو ان کے درمیان حصہ شریک کرنا، اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے مذہب میں یہی صحیح ہے
حدیث نمبر: 12364
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: فَإِنَّا قَدْ سَمِعْنَا أَنَّهَا " إِنْ كَانَتِ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ هِيَ أَقْعَدَهُمَا كَانَ لَهَا السُّدُسُ دُونَ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأَبِ، وَإِنْ كَانَتَا مِنَ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ كَانَتِ الَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأَبِ هِيَ أَقْعَدَهُمَا، فَإِنَّ السُّدُسَ يُقْسَمُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم نے سنا، اگر وہ ماں کی طرف سے ہو تو وہ دونوں میں سے زیادہ حق دار ہے اور اس کے لیے سدس ہے، اس کے علاوہ جو باپ کی طرف سے ہے اور اگر وہ دونوں فوت شدہ سے ایک ہی درجے میں ہوں یا باپ والی زیادہ قریبی ہو تو سدس دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔