السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: توريث القربى من الجدات دون البعدى باب: دور کی دادی کی بجائے قریب کی دادی کو وارث بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 12362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " يُوَرِّثَانِ الْقُرْبَى مِنَ الْجَدَّاتِ السُّدُسَ، وَإِنْ يَكُنَّ سَوَاءً فَهُوَ بَيْنَهُنَّ "، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ: " لَا يَحْجُبُ الْجَدَّاتِ إِلَّا الْأُمُّ، وَيُوَرِّثْهُنَّ وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُنَّ أَقْرَبَ مِنْ بَعْضٍ، إِلَّا أَنَ تَكُونَ إِحْدَاهُنَّ أُمَّ الْأُخْرَى فَيُوَرِّثُ الِابْنَةَ " ⦗٣٨٩⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمَعْنَاهُ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما قریبی جدات کو «السُّدُسُ» ”چھٹے حصے“ کا وارث بناتے تھے۔ اگر سب برابر ہوتیں تو «السُّدُسُ» ”چھٹے حصے“ میں سب کو شریک کر دیتے تھے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جدات کے لیے صرف ماں «حَاجِبٌ» ”رکاوٹ“ بن سکتی ہے اور وہ سب کو وارث بناتے تھے، اگرچہ قریبی ہو یا بعد والی، مگر یہ کہ ان میں سے کوئی دوسری کی ماں ہوتی تو قریبی کو وارث بنا دیتے۔