السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: توريث القربى من الجدات دون البعدى باب: دور کی دادی کی بجائے قریب کی دادی کو وارث بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 12361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " يُطْعِمَانِ الْجَدَّةَ أَوِ الثِّنْتَيْنِ أَوِ الثَّلَاثَ السُّدُسَ، لَا يُنْقَصْنَ مِنْهُ وَلَا يُزَدْنَ عَلَيْهِ إِذَا كَانَتْ قَرَابَتُهُنَّ إِلَى الْمَيِّتِ سَوَاءً، فَإِنْ كَانَتْ إِحْدَاهُنَّ أَقْرَبَ، فَالسُّدُسُ لَهَا دُونَهُنَّ " وَكَانَ عَبْدُ اللهِ " يُشْرِكُ بَيْنَ أَقْرَبِهِنَّ وَأَبْعَدِهِنَّ فِي السُّدُسِ إِنْ كُنَّ بِمَكَانٍ شَتَّى، وَلَا يَحْجُبُ الْجَدَّاتِ مِنَ السُّدُسِ إِلَّا الْأُمُّ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما ایک «جَدَّة» ”دادی یا نانی“ یا دو یا تین کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ کا وارث بناتے تھے، نہ اس سے کم کرتے تھے اور نہ زیادہ، جب سب میت کے قریب ہوتیں۔ اگر ایک زیادہ قریبی ہوتی تو اس کے لیے ان کے علاوہ «السُّدُسُ» ہوتا تھا، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ قریب اور دور والی سب کو «السُّدُسُ» میں شریک کرتے تھے، اگرچہ وہ مختلف جگہوں پر ہوتیں اور «جَدَّات» کے لیے صرف ماں کو «حَاجِب» ”مانعِ ارث“ سمجھتے تھے۔