حدیث نمبر: 12295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَحْجُبُ الْأُمَّ بِالْأَخَوَيْنِ، فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ} [النساء: ١١]، وَأَنْتَ تَحْجُبُهَا بِأَخَوَيْنِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ الْعَرَبَ تُسَمِّي الْأَخَوَيْنِ إِخْوَةً " فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، أَوَهِمْتَ؛ إِنَّمَا هِيَ ثَمَانِيَةُ أَزْوَاجٍ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: " لَا، إِنَّ اللهَ يَقُولُ: {فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى} [القيامة: ٣٩]، فَهُمَا زَوْجَانِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ، يَقُولُ: الذَّكَرُ زَوْجٌ، وَالْأُنْثَى زَوْجٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دو بھائیوں کی موجودگی میں ماں کے لیے حجب کا حکم لگاتے تھے، انہوں نے ان سے کہا: اے ابوسعید! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾ [سورة النساء: 11] اور آپ دو بھائیوں کے ساتھ حجب کا حکم لگاتے ہیں؟ تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: عرب «أَخَوَيْنِ» کو «إِخْوَةٌ» سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے ابوسعید! آپ کا خیال ہے کہ وہ آٹھ جوڑے ہیں: بھیڑ دو دو، بکریاں دو دو اور اونٹ بھی دو دو۔ تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى﴾ [سورة القيامة: 39] اس سے جوڑا بنایا مذکر اور مونث، پس وہ دونوں جوڑے ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک ایک حصہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: مذکر اور مونث جوڑا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12295
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»