السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: نجاسة الماء الكثير إذا غيرته النجاسة باب: زیادہ پانی کی نجاست کا بیان جب نجاست اسے تبدیل کر دے
حدیث نمبر: 1227
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرٌ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ إِلَّا مَا غَلَبَهُ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ " كَذَا وَجَدْتُهُ وَلَفْظُ قُلَّتَيْنِ فِيهِ غَرِيبٌ.حافظ ثناء اللہ
ابو ازہر رحمہ اللہ نے اپنی سند سے پچھلی حدیث کی طرح نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکے ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو اس کے ذائقے اور بو پر غالب آجائے۔“
میں نے اسے اسی طرح پایا ہے اور اس میں «دو مٹکوں» کے الفاظ غریب ہیں۔