حدیث نمبر: 12248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ، وَكَانَ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ، وَكَانَ ابْنُ أَخِيهِ وَارِثَهُ، فَقَتَلَهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ لَيْلًا حَتَّى أَتَى بِهِ حَيًّا آخَرِينَ فَوَضَعَهُ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَصْبَحَ يَدَّعِيهِ عَلَيْهِمْ، حَتَّى تَسَلَّحُوا وَرَكِبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ وَالنَّهْيِ: عَلَى مَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَهَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ، فَأَتَوْهُ، فَقَالَ: " {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ} [البقرة: ٦٧]، قَالَ: فَلَوْ لَمْ يَعْتَرِضُوا الْبَقَرَ لَأَجْزَأَتْ عَنْهُمْ أَدْنَى بَقَرَةٍ، وَلَكِنَّهُمْ شَدَّدُوا فَشُدِّدَ عَلَيْهِمْ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى الْبَقَرَةِ الَّتِي أُمِرُوا بِذَبْحِهَا، فَوَجَدُوهَا عِنْدَ رَجُلٍ لَيْسَ لَهُ بَقَرَةٌ غَيْرَهَا، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَنْقُصُهَا مِنْ مِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَأَخَذُوهَا بِمِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَذَبَحُوهَا فَضَرَبُوهُ بِبَعْضِهَا، فَقَامَ، فَقَالُوا: مَنْ قَتَلَكَ؟ قَالَ: هَذَا، لِابْنِ أَخِيهِ، ثُمَّ مَالَ مَيِّتًا، فَلَمْ يُعْطَ ابْنُ أَخِيهِ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا، وَلَمْ يُوَرَّثْ قَاتِلٌ بَعْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک بانجھ آدمی تھا، اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور اس کے پاس بہت زیادہ مال تھا اور اس کا ایک بھتیجا اس کا وارث تھا، اس نے اسے قتل کر دیا اور رات کو میت کو اٹھا کر دوسرے قبیلے کے ایک آدمی کے گھر کے دروازے پر رکھ گیا، پھر صبح کے وقت ان پر دعویٰ کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کے لیے اسلحہ نکال لیا اور ایک دوسرے کی طرف سوار ہو کر جانے لگے۔ ایک عقلمند نے کہا: کس وجہ سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ہو، تم میں اللہ کا پیغمبر موجود ہے، پس اس پیغمبر نے کہا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً﴾ [سورة البقرة: 67] ”اللہ تم کو حکم دیتے ہیں کہ ایک گائے ذبح کرو۔“ انہوں نے کہا: ﴿أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ [سورة البقرة: 67] ”کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ [سورة البقرة: 67] ”میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوں۔“ اگر وہ گائے پر اعتراض نہ کرتے تو ادنیٰ سی گائے بھی کافی تھی لیکن انہوں نے سختی اختیار کی، پس ان پر بھی سختی کر دی گئی، یہاں تک کہ وہ اس گائے کے پاس آئے جس کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے اسے ایسے آدمی کے پاس پایا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گائے نہ تھی۔ اس نے کہا: میں اس کا چمڑا بھرے ہوئے میں سے کچھ کم نہ کروں گا، پس انہوں نے چمڑا بھر کر سونے کے بدلے گائے لی، اس کو ذبح کیا، انہوں نے اس گائے کا کچھ حصہ میت کو لگایا وہ کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے بھتیجے نے۔ پھر وہ مردہ ہو گیا۔ پس اس کے بھتیجے کو اس کے مال میں سے کچھ نہ دیا گیا اور نہ قاتل اس کے بعد اس کا وارث بنایا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12248
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»