السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من قال: يرث قاتل الخطأ من المال، ولا يورث من الدية باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: خطا سے قتل کرنے والا مال میں سے وارث ہوگا لیکن اسے دیت میں سے وارث نہیں بنایا جائے گا
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ: " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، الْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا، مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا لَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا، وَإِنْ قَتَلَ صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ " قَالَ: وَأنبأ عَلِيٌّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. قَالَ عَلِيٌّ: مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرٍو، وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ كَالْمُتَوَقِّفِ فِي رِوَايَاتِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِذَا لَمْ يَنْضَمَّ إِلَيْهَا مَا يُؤَكِّدُهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَيْسَ فِي الْفَرْقِ بَيْنَ أَنْ يَرِثَ قَاتِلُ الْخَطَأِ وَلَا يَرِثُ قَاتِلُ الْعَمْدِ خَبَرٌ يُتَّبَعُ، ⦗٣٦٤⦘ إِلَّا خَبَرُ رَجُلٍ فَإِنَّهُ يَرْفَعُهُ، لَوْ كَانَ ثَابِتًا كَانَتِ الْحُجَّةُ فِيهِ، وَلَكِنْ لَا يَجُوزُ أَنْ يُثْبَتَ لَهُ شَيْءٌ وَيُرَدُّ لَهُ آخَرُ لَا مُعَارِضَ لَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا لَمْ يَثْبُتِ الْحَدِيثُ فَلَا يَرِثُ عَمْدًا وَلَا خَطَأً شَيْئًا، أَشْبَهُ بِعُمُومِ أَنْ لَا يَرِثَ قَاتِلٌ مِمَّنْ قَتَلَ.سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دینوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے اور عورت اپنے خاوند کی دیت اور مال سے وارث بنے گی اور وہ وارث بنے گا عورت کی دیت اور مال کا، جب ان میں سے ایک نے عمداً دوسرے کو قتل نہ کیا ہوگا۔ اگر ایک نے دوسرے کو عمداً قتل کیا تو اس کی دیت اور مال میں سے کسی چیز کا وارث نہ بنے گا، اگر قتلِ خطا کیا تو مال سے وارث ٹھہرے گا، دیت سے نہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کوئی فرق نہیں کہ قتلِ خطا میں وارث بنے گا اور قتل میں وارث نہیں بنے گا مگر کسی ایسے آدمی کی خبر سے جو اسے مرفوع بیان کرے اور اگر ثابت ہو تو حجت ہوگی۔ لیکن جائز نہیں کہ اس کے لیے کوئی چیز ثابت کی جائے اور دوسرا اس کا رد کرے۔“
جب یہ حدیث ثابت نہیں تو وہ وارث نہیں بنے گا، عمداً یا خطاً قتل کرے، اس عموم سے واضح ہے کہ قاتل نے جسے قتل کیا اس کا وارث نہیں بن سکے گا۔