حدیث نمبر: 12236
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل دیت کا وارث نہ بنے، جس نے قتل کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 12237
أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ الطَّرَسُوسِيِّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي مَتْنِهِ: " لَا يَرِثُ قَاتِلُ عَمْدٍ وَلَا خَطَأٍ شَيْئًا مِنَ الدِّيَةِ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَا الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جان بوجھ کر قتل کرنے والا اور غلطی سے قتل کرنے والا دیت میں سے کسی بھی چیز کا وارث نہ بنے گا۔
حدیث نمبر: 12238
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ عَدِيًّا الْجُذَامِيَّ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَى إِحْدَاهُمَا فَمَاتَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: " اعْقِلْهَا، وَلَا تَرِثْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی جذامی رضی اللہ عنہ کی دو بیویاں تھیں، وہ دونوں لڑنے لگیں، ایک کو پتھر مارا وہ اس سے مر گئی، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور یہ ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”اس کی دیت دے اور تو اس کا وارث نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 12239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُدْعَى قَتَادَةَ كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ، فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا امْرَأَةً مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى عَنْكَ حَتَّى تَرْعَى عَلَيَّ أُمُّ وَلَدِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْعَى عَلَيْهَا، فَأَبَى ابْنَاهَا ذَلِكَ، فَتَنَاوَلَ قَتَادَةُ أَحَدَ ابْنَيْهِ بِالسَّيْفِ فَمَاتَ، فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَعْدِدْ لِي بِقُدَيْدٍ، وَهِيَ أَرْضُ بَنِي مُدْلِجٍ، عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ ثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْءٌ " هَذِهِ مَرَاسِيلُ جَيِّدَةٌ يَقْوَى بَعْضُهَا بِبَعْضٍ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ أَوْجُهٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی مدلج کا ایک آدمی جس کا نام قتادہ تھا، اس کی ام ولد تھی، اس سے دو بیٹے تھے، قتادہ نے عرب کی ایک عورت سے شادی کی۔ اس عرب عورت نے کہا: میں تجھ سے اس صورت میں خوش ہوں کہ تو اپنی ام ولد سے کہہ کہ وہ میری خدمت کیا کرے۔ قتادہ نے ام ولد کو حکم دیا کہ اس کی خدمت کیا کر، لیکن اس کے بیٹوں نے انکار کر دیا، قتادہ تلوار لے کر ایک بیٹے کے درپے ہوئے وہ مر گیا۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ سارا ماجرا ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میرے لیے سواری تیار کرو اور قتادہ اسی وقت بنی مدلج کی زمین میں ایک سو بیس اونٹوں کے ساتھ رہتے تھے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو تیس اونٹ جذعہ، تیس حصی اور چالیس حاملہ پکڑے پھر کہا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 12240
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ ⦗٣٦١⦘ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ يَرِثُهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَلَا يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل کے لیے (مقتول کی وراثت میں سے) کوئی چیز نہیں ہے، اگر (مقتول کا) کوئی وارث نہ ہو تو لوگوں میں سے قریب ترین شخص اس کا وارث ہوگا اور قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 12241
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لِلْقَاتِلِ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ " رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشِ، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَالْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل کے لیے میراث میں کوئی چیز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 12242
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَهُوَ عَمْرُو بْنُ بَرْقٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَإِنَّهُ لَا يَرِثُهُ، وَإِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ غَيْرُهُ "، وَإِنْ كَانَ وَلَدَهُ أَوْ وَالِدَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی کو قتل کرے وہ اس کا وارث نہیں بن سکتا اگرچہ اس کا وارث نہ بھی ہو اور اگرچہ (قاتل) اولاد یا والد ہی کیوں نہ ہو۔“ رسول اللہ ﷺ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ ”قاتل کے لیے میراث نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 12243
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ " إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، إِلَّا أَنَّ شَوَاهِدَهُ تُقَوِّيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل وارث نہیں بن سکتا۔“
حدیث نمبر: 12244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ عُمَرُ: " لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ خَطَأً وَلَا عَمْدًا ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قاتل وارث نہیں بن سکتا، اگرچہ غلطی سے قتل کرے یا جان بوجھ کر۔
حدیث نمبر: 12245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدٍ، وَعَبْدِ اللهِ، قَالُوا: " لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ عَمْدًا وَلَا خَطَأً شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ علی، زید اور عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے تھے: ”قاتل وارث نہیں بن سکتا، جان بوجھ کر قتل کرے یا غلطی سے۔“
حدیث نمبر: 12246
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَ أُمَّهُ فَمَاتَتْ مِنْ ذَلِكَ، فَأَرَادَ نَصِيبَهُ مِنْ مِيرَاثِهَا، فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ: لَا حَقَّ لَكَ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: " حَظُّكَ مِنْ مِيرَاثِهَا الْحَجَرُ، وَأَغْرَمَهُ الدِّيَةَ، وَلَمْ يُعْطِهِ مِنْ مِيرَاثِهَا شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، خلاس سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پتھر پھینکا، وہ اس کی ماں کو لگا اور وہ مر گئی۔ پس اس نے ماں کی وراثت سے اپنا حصہ لینے کا ارادہ کیا، اس کے بھائی نے اسے کہا: تیرا کوئی حق نہیں ہے، پس وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرا حصہ میراث میں صرف پتھر تھا، اور اس پر دیت ڈال دی اور اس عورت کی وراثت سے کچھ نہ دیا۔
حدیث نمبر: 12247
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ، أنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً عَمْدًا أَوْ خَطَأً مِمَّنْ يَرِثُ، فَلَا مِيرَاثَ لَهُ مِنْهُمَا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ قَتَلَتْ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً عَمْدًا أَوْ خَطَأً فَلَا مِيرَاثَ لَهَا مِنْهُمَا، وَإِنْ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا فَالْقَوَدُ إِلَّا أَنْ يَعْفُوا أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ عَفَوْا فَلَا مِيرَاثَ لَهُ مِنْ عَقْلِهِ، وَلَا مِنْ مَالِهِ، قَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحٌ وَغَيْرُهُمْ مِنْ قُضَاةِ الْمُسْلِمِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو آدمی کسی مرد یا عورت کو عمداً قتل کرے یا غلطی سے، اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے، اور جو عورت کسی مرد یا عورت کو عمداً یا غلطی سے قتل کرے، اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے، اور اگر قتل عمداً ہو تو بدلہ ہے، مگر یہ کہ مقتول کے ورثاء معاف کر دیں۔ اگر وہ معاف کر دیں تو اس کی دیت اور مال سے اس کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔ اسی طرح عمر بن خطاب اور علی رضی اللہ عنہما، شریح رحمہ اللہ اور دیگر مسلمان قاضیوں نے فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 12248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ، وَكَانَ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ، وَكَانَ ابْنُ أَخِيهِ وَارِثَهُ، فَقَتَلَهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ لَيْلًا حَتَّى أَتَى بِهِ حَيًّا آخَرِينَ فَوَضَعَهُ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَصْبَحَ يَدَّعِيهِ عَلَيْهِمْ، حَتَّى تَسَلَّحُوا وَرَكِبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ وَالنَّهْيِ: عَلَى مَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَهَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ، فَأَتَوْهُ، فَقَالَ: " {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ} [البقرة: ٦٧]، قَالَ: فَلَوْ لَمْ يَعْتَرِضُوا الْبَقَرَ لَأَجْزَأَتْ عَنْهُمْ أَدْنَى بَقَرَةٍ، وَلَكِنَّهُمْ شَدَّدُوا فَشُدِّدَ عَلَيْهِمْ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى الْبَقَرَةِ الَّتِي أُمِرُوا بِذَبْحِهَا، فَوَجَدُوهَا عِنْدَ رَجُلٍ لَيْسَ لَهُ بَقَرَةٌ غَيْرَهَا، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَنْقُصُهَا مِنْ مِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَأَخَذُوهَا بِمِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَذَبَحُوهَا فَضَرَبُوهُ بِبَعْضِهَا، فَقَامَ، فَقَالُوا: مَنْ قَتَلَكَ؟ قَالَ: هَذَا، لِابْنِ أَخِيهِ، ثُمَّ مَالَ مَيِّتًا، فَلَمْ يُعْطَ ابْنُ أَخِيهِ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا، وَلَمْ يُوَرَّثْ قَاتِلٌ بَعْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک بانجھ آدمی تھا، اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور اس کے پاس بہت زیادہ مال تھا اور اس کا ایک بھتیجا اس کا وارث تھا، اس نے اسے قتل کر دیا اور رات کو میت کو اٹھا کر دوسرے قبیلے کے ایک آدمی کے گھر کے دروازے پر رکھ گیا، پھر صبح کے وقت ان پر دعویٰ کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کے لیے اسلحہ نکال لیا اور ایک دوسرے کی طرف سوار ہو کر جانے لگے۔ ایک عقلمند نے کہا: کس وجہ سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ہو، تم میں اللہ کا پیغمبر موجود ہے، پس اس پیغمبر نے کہا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً﴾ [سورة البقرة: 67] ”اللہ تم کو حکم دیتے ہیں کہ ایک گائے ذبح کرو۔“ انہوں نے کہا: ﴿أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ [سورة البقرة: 67] ”کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ [سورة البقرة: 67] ”میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوں۔“ اگر وہ گائے پر اعتراض نہ کرتے تو ادنیٰ سی گائے بھی کافی تھی لیکن انہوں نے سختی اختیار کی، پس ان پر بھی سختی کر دی گئی، یہاں تک کہ وہ اس گائے کے پاس آئے جس کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے اسے ایسے آدمی کے پاس پایا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گائے نہ تھی۔ اس نے کہا: میں اس کا چمڑا بھرے ہوئے میں سے کچھ کم نہ کروں گا، پس انہوں نے چمڑا بھر کر سونے کے بدلے گائے لی، اس کو ذبح کیا، انہوں نے اس گائے کا کچھ حصہ میت کو لگایا وہ کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے بھتیجے نے۔ پھر وہ مردہ ہو گیا۔ پس اس کے بھتیجے کو اس کے مال میں سے کچھ نہ دیا گیا اور نہ قاتل اس کے بعد اس کا وارث بنایا گیا۔