❮
❯
حدیث نمبر: 12220
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ زِيَادٌ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَمَّتَهُ وَخَالَتَهُ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ كَيْفَ قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهَا؟ " قَالُوا: لَا، فَقَالَ: " ⦗٣٥٦⦘ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِقَضَاءِ عُمَرَ فِيهَا جَعَلَ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَالْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الْأُخْتِ، فَأَعْطَى الْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، وَالْخَالَةَ الثُّلُثَ " وَرَوَاهُ الْحَسَنُ وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَبَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ لِلْعَمَّةِ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْخَالَةِ الثُّلُثَ وَجَمِيعُ ذَلِكَ مَرَاسِيلُ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ عَنْ عُمَرَ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ صَحِيحَةً، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زیاد کے پاس ایک ایسے آدمی کا (کیس) لایا گیا جو فوت ہو چکا تھا اور اس نے (ورثاء میں) پھوپھی اور خالہ چھوڑی تھی۔ انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیسے فیصلہ کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ زیاد نے کہا: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، انہوں نے پھوپھی کو بھائی کی جگہ رکھا اور خالہ کو بہن کی جگہ رکھا، پس پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا۔
حسن، جابر بن زید، بکر بن عبداللہ مزنی اور دیگر نے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا، اور یہ سب مرسل روایات ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہل مدینہ کی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12220
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»