حدیث نمبر: 12219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ الزَّمِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ شَهِيدًا يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا اسْتِفَاءً، وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُمَا مَالًا، وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْضِي اللهُ فِي ذَلِكَ "، فَأَنْزَلَ اللهُ الْمِيرَاثَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَمِّهِمَا فَدَعَاهُ فَقَالَ: " أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَلَكَ مَا بَقِيَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ جو سعد سے تھیں، نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ساتھ احد میں شہید کر دیا گیا تھا، اور ان کے چچا نے ان دونوں کا مال بھی لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور یہ دونوں مال کے بغیر شادی بھی نہیں کر سکتیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے آیت المیراث نازل فرمائی۔ آپ ﷺ نے ان کے چچا کو بلایا اور فرمایا: ”سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو اور باقی تیرے لیے ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12219
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»