السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من قال بتوريث ذوي الأرحام باب: ذوی الارحام کو وارث قرار دینے والے کے قول کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ. قَالَ: وَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَأَصَابَ غُلَامًا فَقَتَلَهُ فِي حِجْرِ خَالٍ لَهُ، لَا يُعْلَمُ لَهُ أَصْلٌ. قَالَ: فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ ".حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ اپنے لڑکوں کو تیرنا سکھاؤ اور اپنے فوجیوں کو تیراندازی سکھاؤ، اور وہ نشانوں کے درمیان آتے جاتے تھے۔ پس ایک نامعلوم تیر آیا اور ایک لڑکے کو لگا اور اس کو قتل کر دیا، وہ اپنے ماموں کی پرورش میں تھا، اس کے نسب کا پتا نہ تھا، راوی کہتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور سوال کیا کہ اس کی دیت کس کو دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: «اللّٰهُ وَرَسُولُهُ مَوْلٰى مَنْ لَا مَوْلٰى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ» ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس کے والی ہیں، جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں اس کا وارث ہوگا جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“