السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: الحث على تعليم الفرائض باب: علمِ فرائض (وراثت) سیکھنے کی ترغیب دینے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أُرَى عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ، وَلَا يَكُنْ كَرَجُلٍ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ فَيَقُولُ: يَا مُهَاجِرُ، أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ⦗٣٤٥⦘ فَإِنَّ إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِي مَاتَ، فَتَقُصُّ فَرِيضَتَهُ؟ فَإِنْ حَدَّثَهُ فَهُوَ عِلْمٌ عُلِّمَهُ وَزِيَادَةٌ زَادَهُ اللهُ، وَإِلَّا قَالَ: فَبِمَا تَفْضُلُونَنَا يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوعبیدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جو قرآن سیکھتا ہے اسے علم الفرائض بھی سیکھنا چاہیے اور اس آدمی کی طرح نہ ہو جسے کوئی ملے اور کہے: اے مہاجر! کیا تو قرآن پڑھتا ہے؟ اگر وہ جواب دے: ہاں، تو وہ کہے: ہمارے گھر کا ایک آدمی فوت ہو گیا ہے، پس تو اس کی وراثت تقسیم کر دے۔ اگر وہ کر دے تو یہ علم ہے جسے اس نے سیکھا اور زیادہ ہونا ہے جو اللہ نے اسے دیا ہے، ورنہ وہ کہے گا: اے مہاجرین! تم کو ہم پر کیا فضیلت ہے۔