السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: التقاط المنبوذ وأنه لا يجوز تركه ضائعا باب: پھینکے گئے لاوارث بچے کو اٹھانے اور اسے ضائع ہونے کے لیے نہ چھوڑنے کے وجوب کے بیان میں
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَيَانٍ، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ فِيلِ بْنِ عَرَادَةَ، عَنْ حِرَادِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: جِئْتُ أَوْ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السُّوقِ فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ مَوْلُودٍ يَبْكِي حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ، فَإِذَا عِنْدَهُ أُمُّهُ، فَقَالَ لَهَا: " مَا شَأْنُكِ؟ " قَالَتْ: جِئْتُ إِلَى هَذَا السُّوقِ لِبَعْضِ الْحَاجَةِ، فَعَرَضَ لِيَ الْمَخَاضُ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ قَوْمٍ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: " هَلْ شَعَرَ بِكِ أَحَدٌ مِنَ أَهْلِ هَذِهِ الدَّارِ؟ " وَقَالَ: " مَا ضَيَّعَ اللهُ أَهْلَ هَذِهِ الدَّارِ، أَمَا أَنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُمْ شَعَرُوا بِكِ ثُمَّ لَمْ يَنْفَعُوكِ فَعَلْتُ بِهِمْ وَفَعَلْتُ "، ثُمَّ دَعَا لَهَا بِشَرْبَةِ سَوِيقٍ فَقَالَ: " اشْرَبِي هَذِهِ تَقْطَعُ الْحَشَا، وَتَعْصِمُ الْأَمْعَاءَ، وَتُدِرُّ الْعُرُوقَ " ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ⦗٣٣٢⦘ قَالَ الصَّعْقُ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ عَنْ فِيلٍ قَالَ: وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُمْ شَعَرُوا بِكِ ثُمَّ لَمْ يَنْفَعُوكِ بِشَيْءٍ لَحَرَّقْتُ عَلَيْهِمْ.جراد بن طارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں صبح کی نماز کے وقت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، ابھی وہ بازار میں ہی تھے کہ ایک نوزائیدہ بچے کے رونے کی آواز سنی، وہ اس کے پاس کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ اس کی ماں بھی اس کے پاس ہے، انہوں نے اس سے پوچھا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس عورت نے کہا: میں اس بازار میں کسی کام کی غرض سے آئی تھی تو مجھے حمل نے آ لیا اور میں نے بچے کو جنم دیا، راوی کہتے ہیں: وہ عورت بازار میں لوگوں کے ایک گھر کے پاس تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس گھر والوں نے تیری خبر لی ہے؟ اور کہا: اللہ ان گھر والوں کو برباد نہ کرے، اگر مجھے علم ہو جائے کہ ان کو تیری خبر ملی پھر انہوں نے تجھے کوئی فائدہ نہ دیا ہو تو میں ان کے ساتھ کچھ معاملہ کرتا، پھر انہوں نے ستو والا پانی منگوایا اور کہا: اسے پی، یہ سانس کی بیماری کو دور کر دے گا، آنتوں کو صاف اور وریدوں کو صحیح کر دے گا، پھر ہم نے مسجد میں داخل ہو کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اگر مجھے علم ہو کہ انہوں نے تیری خبر لی لیکن تجھے نفع نہ دیا تو ان کو آگ لگا دیتا۔