السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: التقاط المنبوذ وأنه لا يجوز تركه ضائعا باب: پھینکے گئے لاوارث بچے کو اٹھانے اور اسے ضائع ہونے کے لیے نہ چھوڑنے کے وجوب کے بیان میں
حدیث نمبر: 12131
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ هَذِهِ الْآيَةَ " {إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ} [التوبة: ١١١] الْآيَةَ، فَجَعَلَ لَهُ الصَّفْقَتَيْنِ جَمِيعًا، وَاللهِ لَوْلَا أَنَّ اللهَ أَمَدَّكُمْ بِخَزَائِنَ مِنْ قِبَلِهِ لَأَخَذْتُ فَضْلَ مَالِ الرَّجُلِ عَنْ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ فَقَسَمْتُهُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ".حافظ ثناء اللہ
معرور بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قصہ بیان کیا، پھر قرآن پاک کی یہ آیت ﴿بیشک اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں، مالوں کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے﴾ [سورة التوبة: 111] پڑھی، پھر دونوں ہاتھوں کو جوڑا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر اللہ نے اپنی طرف سے خزانوں کو نہ کھولا ہوتا تو میں آدمی سے اس کے اور اس کے گھر والوں سے زائد مال لے لیتا اور مہاجرین فقراء کے درمیان تقسیم کر دیتا۔