السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: التقاط المنبوذ وأنه لا يجوز تركه ضائعا باب: پھینکے گئے لاوارث بچے کو اٹھانے اور اسے ضائع ہونے کے لیے نہ چھوڑنے کے وجوب کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُنَيْنٍ أَبِي جَمِيلَةَ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا زَمَانَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى أَخْذِ هَذِهِ النَّسَمَةِ؟ " فَقَالَ: وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ لَهُ عَرِيفِيٌّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ، قَالَ: " كَذَلِكَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: " اذْهَبْ فَهُوَ حُرٌّ، وَلَكَ وَلَاؤُهُ، وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ " لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مُخْتَصَرًا أَنَّهُ الْتَقَطَ مَنْبُوذًا فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: هُوَ حُرٌّ، وَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ.بنو سلیم کے ایک آدمی ابوجمیلہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں کوئی گری ہوئی چیز پائی تو وہ اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ انہوں نے کہا: تجھے اس جان کو اٹھانے پر کس نے ابھارا؟ اس نے کہا: میں نے اسے ضائع ہوتے ہوئے پایا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ ان کو میرے قبیلے کے سردار نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ نیک آدمی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واقعی ایسا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو جا، پس وہ آزاد ہے اور تیرے لیے اس کی ولاء ہے اور ہم پر اس کا خرچ ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس کو ایک بچہ ملا، وہ اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: وہ آزاد ہے اور اس کی ولاء تیرے لیے ہے اور اس کا خرچ ہم پر ہے، بیت المال سے۔