السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: تعريف اللقطة ومعرفتها والإشهاد عليها باب: لقطہ (گری پڑی چیز) کا اعلان کرنے، اس کی پہچان رکھنے اور اس پر گواہ بنانے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12089
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ، وَلَا يَكْتُمْ، وَلَا يُغَيِّبْ، فَإِذَا وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ، وَإِلَّا فَهِيَ مَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو گری پڑی چیز پائے وہ ایک یا دو عدل والے آدمی گواہ بنا لے اور نہ چھپائے اور نہ کچھ غائب کرے۔ اگر اس کا مالک مل جائے تو اسے دے دے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔“