السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: تعريف اللقطة ومعرفتها والإشهاد عليها باب: لقطہ (گری پڑی چیز) کا اعلان کرنے، اس کی پہچان رکھنے اور اس پر گواہ بنانے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12090
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلًا بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَاذْكُرْهَا لِمَنْ يَقْدَمُ مِنَ الشَّامِ سَنَةً، فَإِذَا أَمْضَتِ السَّنَةَ فَشَأْنَكَ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے والد نے خبر دی کہ وہ شام کے ایک راستے میں اترے، وہاں ایک تھیلی پائی جس میں ٨٠ دینار تھے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسجد کے دروازوں پر اس کا اعلان کرو اور جو شام سے آئے ایک سال تک اسے بھی بتاؤ، پس جب ایک سال گزر جائے تو وہ تیرے لیے ہے۔