السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: الرجل يجد ضالة يريد ردها على صاحبها لا يريد أكلها باب: اس شخص کے بیان میں جسے کوئی گمشدہ چیز ملے اور وہ اسے اس کے مالک کو لوٹانے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے استعمال کرنے کا نہیں
حدیث نمبر: 12080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ: " كَانَتْ ضَوَالُّ الْإِبِلِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِبِلًا مُؤَبَّلَةً تَنَاتَجُ لَا يَمَسُّهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِمَعْرِفَتِهَا وَتَعْرِيفِهَا ثُمَّ تُبَاعُ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا أُعْطِيَ ثَمَنَهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں گمشدہ اونٹ جفتی کے لیے تھے، ان کو کسی نے نہ پکڑا یہاں تک کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو آپ نے ان کے اعلان کا حکم دیا، پھر ان کو بیچ دیا گیا، جب ان کا مالک آیا تو اسے اس کی قیمت دے دی گئی۔