السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: الرجل يجد ضالة يريد ردها على صاحبها لا يريد أكلها باب: اس شخص کے بیان میں جسے کوئی گمشدہ چیز ملے اور وہ اسے اس کے مالک کو لوٹانے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے استعمال کرنے کا نہیں
حدیث نمبر: 12079
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ أَنَّهُ وَجَدَ بَعِيرًا فَأَتَى بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عَمَلِي، فَقَالَ لَهُ: " اذْهَبْ فَأَرْسِلْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَلَيْسَ فِيهِ مَا يَدُلُّ عَلَى سُقُوطِ الضَّمَانِ عَنْهُ إِذْ أَرْسَلَهَا فَهَلَكَتْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ پایا، وہ اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آئے، آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ اس کا اعلان کریں۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹے اور کہا: مجھے میرے کام نے مصروف کر دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جا اور جہاں سے اسے پکڑا تھا وہیں چھوڑ دے۔