السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: الاختيار في أخذ اللقطة إذا كان من أهل الأمانة، ومن اختار تركها باب: امانت دار ہونے کی صورت میں لقطہ اٹھانے کے اختیار کا بیان، اور اس شخص کے بیان میں جس نے اسے چھوڑ دینے کو ترجیح دی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا بِالْعُذَيْبِ، فَقَالَا: دَعْهُ دَعْهُ، قُلْتُ: وَاللهِ لَا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ، لَأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ، فَقَدِمْتُ عَلَى أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ، إِنِّي وَجَدْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا "، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا "، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا "، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهَا بَعْدَ أَحْوَالٍ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: " اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا وَوِكَائِهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.سیدنا سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلا، میں نے عذیب نامی جگہ سے کوڑا اٹھایا۔ ان دونوں نے کہا: اسے چھوڑ دو، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے نہیں چھوڑوں گا، درندے اسے کھا لیں گے، میں اس سے فائدہ اٹھا لوں گا۔ میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے ان کے سامنے یہ ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تو نے اچھا کیا، تو نے اچھا کیا، مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں ایک تھیلی ملی، اس میں سو دینار تھے، میں نبی ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تک اعلان کر۔“ میں نے ایک سال تک اعلان کیا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”ایک سال تک اور اعلان کر۔“ تین دفعہ کے بعد جب میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تعداد اور سربندھن کو اچھی طرح پہچان لو۔ اگر کوئی آئے اور وہ اس کی تعداد کی خبر دے اور اس کے بندھن کی بھی تو اسے دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔“