حدیث نمبر: 12050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا "، قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأَكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو اچھی طرح پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دو ورنہ وہ تیری ہی ہے۔“ اس نے پوچھا: گم شدہ بکری کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔“ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے؟ اس کے ساتھ اس کی سیراب کرنے کی چیز اور اس کے کھر ہیں، وہ پانی پر جا سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پا لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12050
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2372
تخریج حدیث «بخاري 2372۔ مسلم 1722»