السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: بصاق الإنسان ومخاطه باب: انسان کے تھوک اور رینٹ (ناک کی رطوبت) کے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1201
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ وَرُئِيَ فِي وَجْهِهِ شِدَّةُ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَقَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا، ثُمَّ بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ " قَالَ يَزِيدُ: وَأَرَانَا حُمَيْدٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی جانب تھوک دیکھا تو اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا اور آپ ﷺ نے غصے میں فرمایا: ”جب بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے اور قبلہ کے درمیان اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، جب تم میں سے کوئی تھوکے تو وہ اپنی بائیں جانب یا اپنے قدموں کے نیچے تھوکے یا اس طرح کرے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور اسے مسل دیا۔ یزید راوی کہتے ہیں کہ حمید نے ہمیں کر کے دکھایا۔