السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ثنا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نِحْلَةً ثُمَّ أَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، فَقَالَ: " أَكُلَّ بَنِيكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمْ مِنَ الْبِرِّ مَا تُرِيدُ مِنْ هَذَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ " قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، فَقَالَ: إِنَّمَا تُحِدِّثْنَا أَنَّهُ قَالَ: " قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ فَضَّلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنُحْلٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحَلَنِي جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ جَلَسَ فَاحْتَبَى ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَيْ بُنَيَّةُ، إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلِيَّ غِنًى بَعْدِي لَأَنْتِ، وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِي، فَوَدِدْتُ وَاللهِ أَنَّكِ كُنْتِ حُزْتِيهِ وَاجْتَدَدْتِيهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا هُوَ الْيَوْمُ مَالُ الْوَارِثِ، وَإِنَّمَا هُوَ أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، هَذِهِ أَسْمَاءُ، فَمَنِ الْأُخْرَى؟ قَالَ: ذُو بَطْنِ ابْنَةِ خَارِجَةَ، أُرَاهَا جَارِيَةً، قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَوْ أَعْطَيْتَنِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا لَرَدَدْتُهُ إِلَيْكَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفَضَّلَ عُمَرُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بِشَيْءٍ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَفَضَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَلَدَ أُمِّ كُلْثُومٍ.سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے عطیہ دیا، پھر وہ مجھے نبی ﷺ کے پاس لائے کہ آپ کو گواہ بنا لیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے کہا: ”کیا تو ان سے نیکی کا ارادہ نہیں رکھتا جس طرح اس سے رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہ نہیں بن سکتا،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد میں قربت اختیار کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطیہ کے ساتھ فضیلت دی۔
شیخ فرماتے ہیں: عروہ بن زبیر کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے مال سے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دیں، جب وفات کا وقت آیا تو بیٹھ گئے پھر گواہ بنایا، پھر کہا: اے پیاری بیٹی! لوگوں میں سے میرے بعد تیرا غنی ہونا زیادہ پسندیدہ ہے اور بیشک میں نے تجھے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو اسے اپنے قبضے میں لے اور کاٹ لے۔ لیکن آج وہ وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابا جان! یہ اسماء میری بہن ہے تو دوسری کون ہے؟ آپ نے کہا: خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں جو ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ مجھے اس سے زیادہ بھی دیتے تو میں آپ کی طرف لوٹا دیتی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کو عطیہ دے کر فضیلت دی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم کے بیٹے کو فضیلت دی۔