السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
حدیث نمبر: 12003
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفَ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا، قَالَ فِي آخِرِهَا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى هَذَا؛ هَذَا جَوْرٌ، أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي النُّحْلِ، كَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے لمبا قصہ سنا، انہوں نے آخر میں کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں اس پر گواہ نہیں بنتا، یہ ظلم ہے، اس پر کسی اور کو گواہ بنا لے اور اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں عدل کرو جس طرح تم پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی میں تمہارے ساتھ عدل کریں۔“