السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: العمرى باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے ہبہ کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 11984
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " وَرِثَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ دَارَهَا، قَالَ: وَكَانَتْ حَفْصَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَسْكَنَتِ ابْنَةَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ ابْنَةُ زَيْدٍ قَبَضَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْكَنَ، وَرَأَى أَنَّهُ لَهُ، وَرَدَّ فِي الْعَارِيَةِ دُونَ الْعُمْرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے گھر کا وارث سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو ٹھہرایا تھا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں وہ زید بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ہی رہا اور جب زید کی بیٹی فوت ہوگئی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے گھر لے لیا اور خیال کیا کہ وہ انہی کا ہے۔ یہ عمریٰ کے علاوہ عاریتاً دینے میں وارد ہوا ہے۔