السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: العمرى باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے ہبہ کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 11985
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: حَضَرْتُ شُرَيْحًا قَضَى لِأَعْمَى بِالْعُمْرَى، فَقَالَ لَهُ الْأَعْمَى: يَا أَبَا أُمَيَّةَ، بِمَا قَضَيْتَ لِي؟ فَقَالَ شُرَيْحٌ: لَسْتُ أَنَا قَضَيْتُ لَكَ، وَلَكِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَكَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ: " مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا، انہوں نے اندھے کے لیے عمریٰ کا فیصلہ کیا، اندھے آدمی نے ان سے کہا: اے ابوامیہ! آپ نے میرے لیے کس چیز کا فیصلہ کیا ہے؟ شریح رحمہ اللہ نے کہا: میں نے تیرے لیے فیصلہ نہیں کیا بلکہ محمد ﷺ نے تیرے لیے چالیس سال سے فیصلہ کر دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اس کی زندگی میں کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی جائے اس کی وفات کے بعد وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔“