السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: ما جاء في هبة المشاع باب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو ہبہ کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11959
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: " نَحَلَنِي أَنَسٌ نِصْفَ دَارِهِ " قَالَ: فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: إِنْ سَرَّكَ يَجُوزُ لَكَ فَاقْبِضْهُ؛ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى فِي الْأَنْحَالِ أَنَّ مَا قُبِضَ مِنْهُ فَهُوَ جَائِزٌ، وَمَا لَمْ يُقْبَضْ فَهُوَ مِيرَاثٌ، قَالَ: " فَدَعَوْتُ يَزِيدَ الرِّشْكَ فَقَسَمَهَا ".حافظ ثناء اللہ
نضر بن انس نے کہا کہ مجھے انس رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف گھر عطیہ دیا، ابوبردہ نے کہا: اگر آپ ﷺ کو خوشی ہے تو اس پر قبضہ کرلو، پس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عطیہ میں دی جانے والی چیز کا فیصلہ کیا کہ جس پر قبضہ کر لیا جائے وہ جائز ہے اور جو قبضہ نہ ہو وہ میراث ہے، نضر کہتے ہیں: میں نے یزید کو بلایا اور اس نے اس گھر کو تقسیم کر دیا۔