السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: ما جاء في هبة المشاع باب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو ہبہ کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعُوهُ؛ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ "، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّويْبَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا يَثْبُتُ عِنْدَهُ لَا يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ وَرَوَى مُسْلِمٌ الْبَطِينُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَرِثَ مَوَارِيثَ فَتَصَدَّقَ بِهَا قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ فَأُجِيزَتْ.سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کا ارادہ کیا اور آپ ﷺ حالتِ احرام میں تھے۔ جب آپ ﷺ روحاء کے مقام پر آئے تو وہاں ایک نیل گائے زخمی پڑی تھی۔ رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا شکار کرنے والا آ جائے“۔ پس سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے اور وہی اس کے شکاری تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ لوگ اسے لے لیں“۔ آپ ﷺ نے حکم دیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر آپ ﷺ آگے چلے یہاں تک کہ جب مقامِ اثایہ پر پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو وہاں ایک ہرن دیکھا جو سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا اور اسے ایک تیر لگا ہوا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اس کے پاس کھڑا ہونے کا حکم دیا تاکہ سب لوگ وہاں سے گزر جائیں اور اسے کوئی نہ چھیڑے۔