کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو ہبہ کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، أَظُنُّهُ قَالَ: ضُحًى، فَقَالَ لِي: " صَلِّهْ، أَوْ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ "، وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ مسجد میں تھے، راوی کا خیال ہے کہ چاشت کا وقت تھا، آپ ﷺ نے مجھے کہا: ”نماز پڑھو“ یا فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو“ اور میرا آپ ﷺ پر کچھ قرض تھا، آپ ﷺ نے مجھے قرض بھی دیا اور زائد بھی کچھ عطا کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11956
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 443
تخریج حدیث «بخاري 443۔ مسلم 715»
حدیث نمبر: 11957
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " بِعْتُ بَعِيرًا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَزَنَ فَأَرْجَحَ لِي، فَمَا زَالَ بَعْضُ تِلْكَ الدَّرَاهِمِ مَعِي حَتَّى أُصِيبَتْ يَوْمَ الْحَرَّةِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
محارب بن دثار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اونٹ بیچا۔ آپ ﷺ نے مجھے وزن کر کے پورا دیا اور زائد بھی دے دیا۔ وہ درہم ہمیشہ میرے پاس رہے یہاں تک کہ حرہ کے دن نقصان پہنچا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11957
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 1831»
حدیث نمبر: 11958
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعُوهُ؛ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ "، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّويْبَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا يَثْبُتُ عِنْدَهُ لَا يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ وَرَوَى مُسْلِمٌ الْبَطِينُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَرِثَ مَوَارِيثَ فَتَصَدَّقَ بِهَا قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ فَأُجِيزَتْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کا ارادہ کیا اور آپ ﷺ حالتِ احرام میں تھے۔ جب آپ ﷺ روحاء کے مقام پر آئے تو وہاں ایک نیل گائے زخمی پڑی تھی۔ رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا شکار کرنے والا آ جائے“۔ پس سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے اور وہی اس کے شکاری تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ لوگ اسے لے لیں“۔ آپ ﷺ نے حکم دیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر آپ ﷺ آگے چلے یہاں تک کہ جب مقامِ اثایہ پر پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو وہاں ایک ہرن دیکھا جو سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا اور اسے ایک تیر لگا ہوا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اس کے پاس کھڑا ہونے کا حکم دیا تاکہ سب لوگ وہاں سے گزر جائیں اور اسے کوئی نہ چھیڑے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11958
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك في الموطا 1139»
حدیث نمبر: 11959
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: " نَحَلَنِي أَنَسٌ نِصْفَ دَارِهِ " قَالَ: فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: إِنْ سَرَّكَ يَجُوزُ لَكَ فَاقْبِضْهُ؛ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى فِي الْأَنْحَالِ أَنَّ مَا قُبِضَ مِنْهُ فَهُوَ جَائِزٌ، وَمَا لَمْ يُقْبَضْ فَهُوَ مِيرَاثٌ، قَالَ: " فَدَعَوْتُ يَزِيدَ الرِّشْكَ فَقَسَمَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نضر بن انس نے کہا کہ مجھے انس رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف گھر عطیہ دیا، ابوبردہ نے کہا: اگر آپ ﷺ کو خوشی ہے تو اس پر قبضہ کرلو، پس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عطیہ میں دی جانے والی چیز کا فیصلہ کیا کہ جس پر قبضہ کر لیا جائے وہ جائز ہے اور جو قبضہ نہ ہو وہ میراث ہے، نضر کہتے ہیں: میں نے یزید کو بلایا اور اس نے اس گھر کو تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11959
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»