حدیث نمبر: 11948
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَغَيْرُهُمَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحَلَهَا جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالٍ بِالْغَابَةِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ ⦗٢٨١⦘ الْوَفَاةُ قَالَ: وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ، مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلِيَّ غِنًى بَعْدِي مِنْكِ، وَلَا أَعَزَّ عَلَيَّ فَقْرًا بَعْدِي مِنْكِ، وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ مِنْ مَالِي جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا، فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَاحْتَزْتِيهِ كَانَ لَكِ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا هُوَ مَالُ الْوَارِثِ، وَإِنَّمَا هُوَ أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ، فَقَالَتْ: يَا أَبَتِ، وَاللهِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ، إِنَّمَا هُوَ أَسْمَاءُ فَمَنِ الْأُخْرَى؟ قَالَ: ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ، أُرَاهَا جَارِيَةً " قَالَ: وَأَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ بِذَلِكَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ بِذَلِكَ أَيْضًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَرْضًا يُقَالُ لَهَا: تَمْرَدُ، وَكَانَتْ عِنْدَهُ لَمْ تَقْبِضْهَا.
حافظ ثناء اللہ

نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مقامِ غابہ میں واقع اپنی کھجوروں میں سے بیس وسق کٹائی کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے فرمایا: ”اے میری بیٹی! لوگوں میں سے اور کوئی ایسا نہیں جس کا میرے بعد غنی ہونا تمہاری نسبت زیادہ پسند ہو اور نہ کسی کا محتاج ہونا میرے بعد تم سے زیادہ مجھ پر شاق ہے اور میں نے تمہیں بیس وسق کھجور کٹائی کی عطا کی ہے۔ اگر تو نے اسے کٹوا لیا ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے تو بہتر ورنہ وہ وارثوں کا مال ہے اور وہ تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، تم اسے کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر لینا“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے ابا جان! اللہ کی قسم اگر اتنا زیادہ مال بھی ہوتا تو میں چھوڑ دیتی۔ میری بہن تو صرف سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ہے، دوسری کون ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”خارجہ کے پیٹ والی۔ میرے خیال میں وہ لڑکی تھی“۔
قاسم بن محمد رحمہ اللہ بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں، مگر انہوں نے کہا کہ زمین کا نام ثمرد تھا جو اس کے پاس تھی لیکن اس کا قبضہ نہ تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11948
درجۂ حدیث محدثین: مالك في الموطا 806
تخریج حدیث «مالك في الموطا 806»