حدیث نمبر: 11949
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلًا ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا، فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ: مَالِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا، وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً لَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نَحَلَهَا حَتَّى تَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَارِثِهِ فَهِيَ بَاطِلٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے کہ اپنے بیٹوں کو عطیہ دیتے ہیں، پھر اسے روک لیتے ہیں۔ اگر کسی کا بیٹا مر جائے تو کہتے ہیں: میرا مال میرے پاس ہے، میں نے کسی کو نہیں دیا اور اگر وہ خود مر جائیں تو (موت سے قبل کہتے ہیں) کہ وہ میرے بیٹے کا ہے، میں نے اس کو عطا کیا تھا۔ جس نے کسی کو عطیہ دیا اور عطیہ دیے جانے والے نے اس پر قبضہ نہ کیا، پھر اس کی موت پر وہ عطیہ وارثوں کا ہے اور عطیہ کرنا باطل ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11949
درجۂ حدیث محدثین: مالك في الموطا 1475
تخریج حدیث «مالك في الموطا 1475»