السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: اتخاذ المسجد والسقايات وغيرها باب: مسجد، پانی پلانے کی جگہیں (سبیلیں) اور ان جیسی دیگر اشیاء بنانے کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَرَّاحِ الْغَزِّيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ رُزَيْقٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَزِيدَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَتْ زِيَادَتُهُ عَلَى دَارِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعَوِّضَهُ مِنْهَا، فَأَبَى وَقَالَ: قَطِيعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاخْتَلَفَا فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ ⦗٢٧٨⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَأَتَيَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، وَكَانَ يُسَمَّى سَيِّدَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَمَرَ لَهُمَا بِوِسَادَةٍ فَأُلْقِيَتْ لَهُمَا، فَجَلَسَا عَلَيْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَذَكَرَ عُمَرُ مَا أَرَادَ، وَذَكَرَ الْعَبَّاسُ قَطِيعَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أُبَيٌّ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ عَبْدَهُ وَنَبِيَّهُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ يَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا، قَالَ: أَيْ رَبِّ، وَأَيْنَ هَذَا الْبَيْتُ؟ قَالَ: حَيْثُ تَرَى الْمَلَكَ شَاهِرًا سَيْفَهُ، فَرَآهُ عَلَى الصَّخْرَةِ، وَإِذَا مَا هُنَاكَ يَوْمَئِذٍ أَنْدَرٌ لِغُلَامٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَتَاهُ دَاوُدُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَبْنِيَ هَذَا الْمَكَانَ بَيْتًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ الْفَتَى: آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَهَا مِنِّي بِغَيْرِ رِضَايَ؟ قَالَ: لَا، فَأَوْحَى اللهُ إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ فِي يَدِكَ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَأَرْضِهِ، فَأَتَاهُ دَاوُدُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ بِرِضَاكَ، فَلَكَ بِهَا قِنْطَارٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ يَا دَاوُدُ، وَهِيَ خَيْرٌ أَمِ الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: بَلْ هِيَ خَيْرٌ، قَالَ: فَأَرْضِي، قَالَ: فَلَكَ بِهَا ثَلَاثُ قَنَاطِيرَ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يُشَدِّدُ عَلَى دَاوُدَ حَتَّى رَضِيَ مِنْهُ بِتِسْعِ قَنَاطِيرَ " قَالَ الْعَبَّاسُ: اللهُمَّ لَا آخُذُ لَهَا ثَوَابًا وَقَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَى جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَبِلَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهُ فَأَدْخَلَهَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جگہ کا اضافہ کریں تو زیادتی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر تک پہنچ گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد میں داخل کریں اور ان کو معاوضہ دے دیں، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور کہا: ”یہ رسول اللہ ﷺ کی عطا کردہ زمین ہے۔“ دونوں میں اختلاف ہو گیا، انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا مان لیا۔ وہ دونوں ان کے گھر میں آئے اور ان کا نام سید المسلمین تھا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے لیے چادر بچھانے کا حکم دیا۔ وہ دونوں سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو ارادہ کیا تھا وہ ذکر کیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا دیا ہوا قطعہ ہے، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے (حدیث بیان کرتے ہوئے) کہا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی کو حکم دیا کہ اس کا گھر بنائے۔ داؤد (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! کہاں گھر بناؤں؟ اللہ نے فرمایا: جہاں تو کسی بادشاہ کی تلوار دیکھے۔ داؤد (علیہ السلام) نے ایک چٹان پر دیکھی اور اس وقت وہاں بنی اسرائیل کے ایک غلام کی انوکھی چیز تھی۔
داؤد (علیہ السلام) اس کے پاس آئے اور کہا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس جگہ پر اللہ کا گھر بناؤں۔ نوجوان نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ میری رضا کے بغیر ہی گھر بناؤ؟ داؤد (علیہ السلام) نے کہا: نہیں، بلکہ داؤد کی طرف وحی کی ہے کہ میں نے تیرے ہاتھ میں زمین کے خزانے دیے ہیں، پس تو اس کو راضی کر۔ وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا: اے داؤد! میں نے قبول کر لیے، کیا میرے لیے وہ بہتر ہے یا خزانے؟ داؤد (علیہ السلام) نے کہا: وہ بہتر ہے، اس نے کہا: پس آپ مجھے راضی کر دیں، داؤد (علیہ السلام) نے کہا: تیرے لیے تین قنطار ہیں۔ وہ مسلسل داؤد (علیہ السلام) پر شدت کرتا رہا یہاں تک کہ وہ نو قنطار پر راضی ہوا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ! میں اس کا کوئی نفع نہ لوں گا اور میں نے وہ مسلمانوں کی جماعت پر صدقہ کر دیا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کیا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں داخل کر دیا۔