السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: اتخاذ المسجد والسقايات وغيرها باب: مسجد، پانی پلانے کی جگہیں (سبیلیں) اور ان جیسی دیگر اشیاء بنانے کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ وَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَيْسَ فِيهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟ " فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، قَالَ: وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟ " فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي، أَوْ قَالَ: مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَزِدْتُهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَجْهِيزِ جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَقِصَّةِ ثَبِيرٍ.ثمامہ بن حزن قشیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں گھر میں گیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ تھے، انہوں نے کہا: میں تم کو اسلام اور اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو «بِئْرَ رُومَةَ» کے علاوہ کہیں بھی میٹھا پانی نہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو «بِئْرَ رُومَةَ» خریدے گا اور اس کا ڈول بظاہر مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ ہوگا، لیکن جنت میں اس کے لیے بہتر ہوگا۔“ میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خریدا، لیکن آج تم مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو! یہاں تک کہ میں سمندر کا پانی پیتا ہوں، انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا: میں تم کو اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ مسجد تنگ تھی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آلِ فلاں کا گھر خریدے گا، اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہوگا۔“ پس میں نے اپنے مال سے اس کو خریدا اور میں نے مسجد میں اضافہ کیا، لیکن آج تم مجھے اسی مسجد میں نماز پڑھنے سے روکتے ہو! انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔