حدیث نمبر: 11938
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ كَامِلٍ الْعَطَّارُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ لِلْعَبَّاسِ دَارٌ إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ فِي الْمَدِينَةِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بِعْنِيهَا أَوْ هَبْهَا لِي؛ حَتَّى أُدْخِلَهَا فِي الْمَسْجِدِ " فَأَبَى، فَقَالَ: اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَضَى لِلْعَبَّاسِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَأَ عَلَيَّ مِنْكَ، فَقَالَ أُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: أَوْ أَنْصَحَ لَكَ مِنِّي، ثُمَّ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا بَلَغَكَ حَدِيثُ دَاوُدَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَهُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَأَدْخَلَ فِيهِ بَيْتَ امْرَأَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِهَا، فَلَمَّا بَلَغَ حُجَزَ الرِّجَالِ مَنَعَهُ اللهُ بِنَاءَهُ، قَالَ دَاوُدُ: أَيْ رَبِّ، إِنْ مَنَعْتَنِي بِنَاءَهُ، فَاجْعَلْهُ فِي خَلَفِي. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: " أَلَيْسَ قَدْ قَضَيْتَ لِي بِهَا وَصَارَتْ لِي؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُهَا لِلَّهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا گھر مدینہ میں مسجد کی جانب تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے بیچ دو یا ہبہ کر دو تاکہ میں (اسے) مسجد میں داخل کرلوں۔“ انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: ”میرے اور اپنے درمیان اصحابِ نبی میں سے کسی کو فیصل بنا لو۔“ انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو فیصل مان لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی ﷺ کے اصحاب میں سے میرے نزدیک آپ سے بڑھ کر عظمت والا کوئی نہیں ہے۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کا زیادہ خیر خواہ ہوں، پھر کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو داؤد کی حدیث ملی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر بیت المقدس بنانے کا حکم دیا تو داؤد نے ایک عورت کا گھر بغیر اجازت کے داخل کر لیا۔ جب لوگوں کا گروہ پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے گھر بنانے سے منع کر دیا۔ داؤد نے کہا: ”اے میرے رب! اگر مجھے روک دیا ہے تو میرے بعد کس کو گھر بنانے کا حکم دے دینا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ نے میرے حق میں فیصلہ نہیں کیا اور وہ میرا ہو گیا؟“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیوں نہیں!“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ گھر اللہ کے لیے وقف کر دیا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11938
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»