حدیث نمبر: 11935
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ ⦗٢٧٧⦘ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَهَا هُنَا عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَا هُنَا طَلْحَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَا هُنَا الزُّبَيْرُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَا هُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللهُ لَهُ "، فَابْتَعْتُهُ، قَالَ: أَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ: بِعِشْرِينَ أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهُ، قَالَ: " اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ "؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللهُ لَهُ "، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ، قَالَ: " اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَجْرُهَا لَكَ "؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ: " مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللهُ لَهُ "، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ خِطَامًا وَلَا عِقَالًا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللهُمُ اشْهَدِ، اللهُمَّ اشْهَدِ، اللهُمُ اشْهَدْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے قصہ بیان کیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو پوچھا: کیا یہاں علی (رضی اللہ عنہ) ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر طلحہ (رضی اللہ عنہ) کا پوچھا: انہوں نے کہا: ہاں، پھر پوچھا: زبیر (رضی اللہ عنہ) یہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر پوچھا: سعد (رضی اللہ عنہ) یہاں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بئرِ رومہ خریدے گا اللہ اسے معاف فرمائیں گے“، میں نے اس کو خریدا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے کہا: میں نے بئرِ رومہ خریدا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دو اور اس کا اجر تجھے ملے گا“، انہوں نے ہاں میں جواب دیا، پھر کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ تبوک والے لشکر کے چہروں کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”جو اس لشکر کو تیار کرے گا اللہ اسے معاف فرمائے گا“۔ میں نے ان کو تیار کیا، یہاں تک کہ وہ کوئی لگام بھی کم نہ پاتے تھے، انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہنا، تین دفعہ یہ الفاظ کہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11935
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ احمد 511»