السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقات المحرمات باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمِهْرَجَانِيُّ الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: " وَتَصَدَّقَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ عَلَى وَلَدِهِ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرُبُعِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ وَبِالثَّنِيَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِهِ بِيَنْبُعَ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ فِي الْحَرَامِيَّةِ، وَدَارِهِ بِمِصْرَ، وَأَمْوَالِهِ بِالْمَدِينَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِالْمَدِينَةِ وَبِدَارِهِ بِمِصْرَ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرُومَةَ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَهْطِ مِنَ الطَّائِفِ وَدَارِهِ بِمَكَّةَ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ " قَالَ: وَمَا لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُهُ كَثِيرٌ، يُجْزِئُ مِنْهُ أَقَلُّ مِمَّا ذَكَرْتُ، قَالَ: وَفِيمَا ذَكَرْتُ مِنْ صَدَقَاتِ مَنْ تَصَدَّقَ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ حُجَّةٌ لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي مِلْكِ بُيُوتِهَا وَكِرَاءِ ⦗٢٦٧⦘ مَنَازِلَهَا؛ لِأَنَّهُ لَا يَعْمِدُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالزُّبَيْرُ وَعُثْمَانُ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى شَيْءٍ النَّاسُ فِيهِ شُرَّعٌ سَوَاءٌ فَيَتَصَدَّقُونَ بِهِ عَلَى أَوْلَادِهِمْ دُونَ مَالِكِيهِ مَعَهُمْ.ابوبکر عبداللہ بن زبیر حمیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی مروہ اور ثنیہ والی جگہ اپنی اولاد پر صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنی ینبع والی زمین صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ اور مصر والا گھر اور اپنے مدینہ والے اموال اپنی اولاد پر صدقہ کیے۔ وہ آج تک اسی طرح ہیں اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنا مدینہ اور مصر والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے «بِئْرَ رُومَةَ» ”بئرِ رومہ“ صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے طائف اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنا مدینہ اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے؛ فرمایا: اور جو مجھے یاد نہیں وہ بہت ہے، اور جو میں نے ذکر کیا اس سے کم بھی کافی ہے۔ اور جو میں نے ذکر کیا کہ جس نے اپنا گھر مکہ میں صدقہ کر دیا، اس میں اہل مکہ کے لیے دلیل ہے ان کے گھروں کی ملکیت اور ان کو کرایہ پر دینے کی؛ اس لیے کہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا زبیر، سیدنا عثمان، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہم ایسی چیز کا قصد نہیں کر سکتے تھے جس میں سب لوگ برابر کے شریک ہوں کہ اسے اپنے ساتھ کے دوسرے مالکوں کو چھوڑ کر صرف اپنی اولاد پر صدقہ کر دیں۔