حدیث نمبر: 11899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ قَدْ " حَبَسَ دَارَهُ الَّتِي فِي الْبَقِيعِ، وَدَارَهُ الَّتِي عِنْدَ الْمَسْجِدِ، وَكَتَبَ فِي كِتَابٍ حَبَسَهُ عَلَى مَا حَبَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَالَ مَالِكٌ: وَحَبَسَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عِنْدِي، قَالَ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْكُنُ مَنْزِلًا فِي دَارِهِ الَّتِي حَبَسَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مَاتَ فِيهِ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَ ذَلِكَ " حَبَسَ دَارَهُ وَكَانَ يَسْكُنُ مَسْكَنًا فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنا وہ گھر رکھ لیا جو بقیع کے پاس تھا اور وہ گھر جو مسجد کے پاس تھا اور اسے «حُبْسَه» میں لکھ دیا، جسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے روکا تھا، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا لکھا ہوا «حُبْس» میرے پاس ہے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد کے پاس والے گھر میں رہے، یہاں تک کہ اسی میں فوت ہوئے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی کیا، انہوں نے اپنا گھر روک رکھا جو ان کا مسکن (رہائش) تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11899