السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقات المحرمات باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
حدیث نمبر: 11890
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَحَبَّ إِلِيَّ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهِ، وَإِنْ شِئْتَ أَمْسَكْتَ أَصْلَهُ "، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ مَالًا، أَوْ مُتَأَثِّلٍ مِنْهُ مَالًا ⦗٢٦٤⦘ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَرْسَلَهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حَمَّادٍ وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ آخِرَهُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ مَوْصُولًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے محبوب چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو صدقہ کر دے اور اصل کو روک لے،“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کمزوروں، مساکین اور مسافر پر صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھا لے یا محتاج دوست کو کھلا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔