حدیث نمبر: 11889
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا "، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ وَلَا تُورَثَ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْأَقْرَبِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَفِي الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي الضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا يَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِي بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْحَفَرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خیبر میں زمین ملی، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ ﷺ سے مشورہ مانگا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اس کی پیداوار کو صدقہ کر دے اور اصل زمین اپنے پاس رکھ۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ نہ وہ بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ اسے وارث بنایا جائے گا، پس فقراء، رشتہ دار، اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مسافر اور مہمان کے لیے اسے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو، اگر وہ معروف طریقے سے اس میں سے کھا لے یا اپنے محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11889
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»