السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقات المحرمات باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا "، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُورَثَ وَلَا يُوهَبَ، لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسی کوئی چیز میرے نزدیک اچھی نہیں ہے۔ آپ ﷺ مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اصل زمین روک لے اور پیداوار صدقہ کردے۔“ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اسے نہ بیچا جائے گا نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور نہ ہبہ کی جائے گی۔ فقراء کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، گردن آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے میں، مہمان کے لیے، مسافر کے لیے صدقہ کردیا اور اس کا والی اگر معروف طریقے سے کھالے یا کسی محتاج کو کھلا دے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔