السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقات المحرمات باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، ح وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَشْهَلُ يَعْنِي ابْنَ حَاتِمٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ أَبُو عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا وَاللهِ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهَا، فَمَا تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا "، قَالَ: فَجَعَلَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَدَقَةً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ، تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَلِذَوِي الْقُرْبَى، وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَفِي الرِّقَابِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَالضَّيْفِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَهُ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. لَفْظُهُ حَدِيثُ ابْنِ بِشْرَانَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے، آپ ﷺ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو پیداوار صدقہ کر دے اور اصل زمین روک لے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر اسے صدقہ کر دیا کہ نہ اسے بیچا جائے گا، نہ اسے ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا کوئی وارث بنے گا، اسے فقراء، مساکین، رشتہ داروں، اللہ کے راستے میں اور گردن آزاد کرانے میں صدقہ کیا جائے گا۔ ابن عون کا خیال ہے کہ مہمان اور جو اس کا والی ہو وہ بھی معروف طریقے سے کھا لے اور محتاج کو دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔