السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ترتيب سقي الزرع والأشجار من الأودية المباحة باب: مباح وادیوں سے کھیتوں اور درختوں کو پانی پلانے کی ترتیب کے بیان میں
حدیث نمبر: 11857
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِيهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ كُبَرَاءَهُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ سَهْمٌ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَاصَمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَهْزُورِ السَّيْلِ الَّذِي يَقْتَسِمُونَ مَاءَهُ، فَقَضَى بَيْنَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، لَا يَحْبِسُ الْأَعْلَى عَنِ الْأَسْفَلِ ".حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن ابی مالک نے اپنے بڑوں سے سنا کہ قریش کا ایک آدمی تھا، اس کا بنی قریظہ میں حصہ تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مہروز کے نالے کا جھگڑا لے کر آیا جس کا پانی وہ تقسیم کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے درمیان فیصلہ کیا کہ ”پانی ٹخنوں تک پہنچ جائے تو اوپر والا نیچے والے کا پانی نہ روکے۔“