السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من أقطع قطيعة فباعها باب: اس شخص کے بیان میں جسے کوئی جاگیر دی گئی اور اس نے اسے فروخت کر دیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الربيع الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗٢٤٧⦘ عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ تَحْتَ دَوْمَةٍ فَأَقَامَ ثَلَاثًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَإِنَّ جُهَيْنَةَ لَحِقُوهُ بِالرَّحْبَةِ، فَقَالَ لَهُمْ: " مَنْ أَهْلُ ذِي الْمَرْوَةِ؟ " فَقَالُوا: بَنُو رِفَاعَةَ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَ: " قَدِ أَقْطَعْتُهَا لِبَنِي رِفَاعَةَ "، فَاقْتَسَمُوهَا، فَمِنْهُمْ مَنْ بَاعَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَمْسَكَ، فَعَمِلَ ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَاهُ عَبْدَ الْعَزِيزِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِبَعْضِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِهِ كُلِّهِ.سیدنا سبرہ بن عبدالعزیز اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ دومہ کے نیچے مسجد والی جگہ پر اترے۔ آپ ﷺ تین دن ٹھہرے، پھر تبوک کی طرف گئے اور جہینہ قبیلے کے لوگ رحبہ کے مقام پر آپ ﷺ کو ملے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”مروہ والے کون ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جہینہ کے بنو رفاعہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے بنو رفاعہ کے لیے زمین الاٹ کی ہے۔“ انہوں نے اسے تقسیم کر لیا، ان میں سے بعض نے بیچ دیا اور بعض نے روک لیا اور کام کیا، پھر (ابن وہب کہتے ہیں:) میں نے سبرہ کے والد عبدالعزیز سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث کچھ بیان کی، مکمل بیان نہیں کی۔