❮
❯
حدیث نمبر: 11828
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ حَمَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيَّ حَدَّثَهُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ سُمِيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُمَيْرٍ - قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: ابْنِ عَبْدِ الْمُدَانِ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ " أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ "، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: الَّذِي بِمَأْرِبَ، فَقَطَعَهُ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ، إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: " فَانْتُزِعَ مِنْهُ " قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ، قَالَ: " مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ "، وَقَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: أَخْفَافُ الْإِبِلِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ وفد کی شکل میں نبی ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ سے نمک کی کان مانگی۔ ابن المتوکل رحمہ اللہ نے کہا: وہ جو مارب میں ہے، آپ ﷺ نے اسے دے دی۔ جب وہ لے کر واپس ہوئے تو مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اسے کیا دیا ہے؟ آپ نے اسے جاری پانی دے دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے وہ واپس لے لی۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ پیلو کے درختوں میں سے کون سے چراگاہ کے طور پر محفوظ کیے جا سکتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک کھر نہ پہنچیں۔“ ابن المتوکل رحمہ اللہ نے کہا: اونٹوں کے کھر۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب إحياء الموات / حدیث: 11828
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»