السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من أقطع قطيعة أو تحجر أرضا ثم لم يعمرها أو لم يعمر بعضها باب: جس شخص کو کوئی جاگیر دی گئی، یا اس نے کسی زمین کے گرد پتھر رکھ کر حد بندی کی، پھر اس نے اسے یا اس کے کچھ حصے کو آباد نہ کیا۔
حدیث نمبر: 11826
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: " قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَقِيقَ رَجُلًا وَاحِدًا، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَثُرَ عَلَيْهِ، فَأَعْطَاهُ بَعْضَهُ وَقَطَعَ سَائِرَهُ النَّاسَ ".حافظ ثناء اللہ
طاؤس اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عقیق نامی جگہ ایک آدمی کو دی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں اسے زیادہ محسوس کیا تو بعض اس کو دی اور بعض دوسرے لوگوں میں بانٹ دی۔