السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من أحيا أرضا ميتة ليست لأحد، ولا في حق أحد، فهي له باب: ”جس شخص نے کسی ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جو نہ کسی کی ملکیت ہو اور نہ کسی کے حق میں آتی ہو تو وہ اسی کی ہے“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدٌ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ قَبْلَهُ فِهيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " قَالَ: فَلَقَدْ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ مِنْ بَيَاضَةَ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَجَمَةٍ لِأَحَدِهِمَا غَرَسَ فِيهَا الْآخَرُ نَخْلًا، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ بِأَرْضِهِ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ عَنْهُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ بِالْفُئُوسِ، وَإِنَّهُ لَنَخْلٌ عُمٌّ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَالْعُمُّ قَالَ بَعْضُهُمُ: الَّذِي لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ، وَقَالَ بَعْضُهُمُ: الْعُمُّ الْقَدِيمُ، وَقَالَ بَعْضُهُمُ: الطَّوِيلُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارِ أَنَّهُ قَالَ: الْعُمُّ: الشَّبَابُ.یحییٰ بن عروہ بن زبیر اپنے والد (عروہ رحمہ اللہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی جو اس سے پہلے کسی کی نہ تھی وہ اسی کی ہے اور «عِرْقٍ ظَالِمٍ» ”ظالم رگ والے“ کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“ پھر کہا: مجھے اس حدیث والے آدمی نے بیان کیا کہ اس نے بنی بیاضہ کے دو آدمیوں کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جھاڑی دار زمین کا جھگڑا لے کر آئے جو ان میں سے ایک کی تھی اور دوسرے نے اس میں کھجور کے درخت لگا دیے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے زمین والے کے لیے اس کی زمین کا فیصلہ کیا اور کھجوروں والے کو حکم دیا کہ وہ اپنی کھجوریں وہاں سے نکال لے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ وہ کلہاڑوں سے کھجوروں کی جڑوں پر ضربیں لگا رہا تھا، حالانکہ وہ «عُمّ» کھجوریں تھیں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: «الْعُمُّ» کے بارے میں بعض نے کہا ہے: جو نہ چھوٹی ہو نہ لمبی، اور بعض نے کہا ہے کہ «الْعُمُّ» کا مطلب پرانی ہے، اور بعض نے کہا ہے: لمبی۔ شیخ فرماتے ہیں: محمد بن اسحاق بن یسار سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: «الْعُمُّ» کا مطلب جوان ہے۔